میں نے 2018 میں اپنے کلینک میں ایک مریضہ دیکھی، جسے بچپن میں والدین کی علیحدگی کا صدمہ تھا۔ وہ ہر رات 2 بجے جاگ جاتی تھی، دل دھڑکتا، اور سانس پھولنے لگتا۔ اس نے کہا، 'ڈاکٹر، میں ماضی کو بھولنا چاہتی ہوں، لیکن وہ مجھے نہیں بھولتا۔' یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے محسوس کیا کہ صدمہ صرف یاد نہیں، بلکہ جسم میں بسا ہوا تجربہ ہے۔
ماضی کے صدمے ہماری موجودہ زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟ جب ہم کسی تکلیف دہ واقعے سے گزرتے ہیں، تو ہمارا دماغ اسے 'خطرناک' کے طور پر ریکارڈ کر لیتا ہے۔ اس کے بعد، کوئی بھی چیز جو اس یاد کو تازہ کرے، ہمارا جسم لڑائی یا بھاگنے کے موڈ میں چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف 'بھول جانے' کی کوشش ناکام ہوتی ہے۔
اس مضمون میں، میں اپنے 14 سال کے کلینیکل تجربے کی بنیاد پر 4 عملی حل پیش کروں گی۔ یہ حل میں نے خود آزمائے ہیں، اور ان میں ایک ناکامی کا لمحہ بھی شامل ہے جب میں نے سوچا کہ شاید یہ کام نہیں کرے گا۔ لیکن آہستہ آہستہ، میں نے دیکھا کہ یہ طریقے کیسے صدمے کے زخموں کو بھرتے ہیں۔

💬 اپنا تجربہ شیئر کریں
اپنا تجربہ شیئر کریں — یہ ایسے ہی مسئلے سے گزرنے والوں کی مدد کرتا ہے!