میرے ایک دوست کے تین کریڈٹ کارڈز تھے، ایک ذاتی قرض، اور ایک کار کا قرض۔ ہر مہینے وہ تمام قسطیں ادا کر دیتا لیکن کبھی کوئی قرض ختم نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ وہ ہر قرض پر تھوڑا تھوڑا اضافی پیسہ ڈال دیتا ہے۔ یہ سن کر مجھے ہنسی آگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ بغیر کسی ترجیح کے قرض ادا کرنا ایسے ہی ہے جیسے آنکھیں بند کر کے تیر چلانا۔
قرضوں کی ادائیگی کا سادہ منصوبہ جو حقیقت میں کام کرتا ہے

قرضوں کی ترجیح کے لیے دو مقبول طریقے ہیں: برفانی تودہ (سب سے زیادہ سود والا قرض پہلے) یا برفانی گولہ (سب سے چھوٹا قرض پہلے)۔ دونوں میں سے وہ انتخاب کریں جو آپ کو حوصلہ دیتا رہے۔
"میں نے خود 2019 میں 12 لاکھ روپے کا قرض اٹھایا تھا جس میں کریڈٹ کارڈ اور ایک کار کا قرض شامل تھا۔ پہلے میں ہر ماہ کم از کم ادائیگی کرتا رہا اور کبھی ختم ہوتا نظر نہیں آیا۔ پھر میں نے برفانی تودے کا طریقہ اپنایا اور دو سال میں سارا قرض صاف کر دیا۔"
بہت سے لوگ قرض ادا کرتے وقت سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ وہ ہر قرض پر تھوڑا تھوڑا اضافی پیسہ ڈالتے ہیں۔ اس طرح کسی ایک قرض پر توجہ نہیں ملتی اور قرض ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اس کے علاوہ، جذباتی طور پر بھی یہ مشکل ہے کیونکہ آپ کو کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔
🔧 5 حل
تمام قرضوں کو سود کی شرح کے حساب سے ترتیب دیں اور سب سے زیادہ سود والے قرض پر توجہ دیں۔
-
1
قرضوں کی فہرست بنائیں — تمام قرضوں کے نام، بقایا رقم، اور سود کی شرح لکھیں۔ مثال کے طور پر: کریڈٹ کارڈ 1: 50,000 روپے 28% سود، کریڈٹ کارڈ 2: 30,000 روپے 25% سود، کار قرض: 200,000 روپے 12% سود۔
-
2
سب سے زیادہ سود والا قرض منتخب کریں — فہرست میں سب سے اوپر والے قرض پر اضافی ادائیگی کریں۔ مثال کے طور پر، اگر کریڈٹ کارڈ 1 کا سود سب سے زیادہ ہے تو اس پر 10,000 روپے اضافی ڈالیں۔
-
3
باقی قرضوں کی کم از کم ادائیگی کریں — دوسرے قرضوں پر صرف کم از کم ماہانہ قسط ادا کریں۔ یقینی بنائیں کہ کسی قرض پر ڈیفالٹ نہ ہو۔
-
4
پہلا قرض ختم ہونے پر اگلے پر جائیں — جب پہلا قرض ختم ہو جائے تو اس کی قسط کی رقم کو اگلے سب سے زیادہ سود والے قرض میں شامل کریں۔
قرضوں کو رقم کے حساب سے چھوٹے سے بڑے ترتیب دیں اور سب سے چھوٹے قرض پر توجہ دیں۔
-
1
قرضوں کو رقم کے حساب سے ترتیب دیں — تمام قرضوں کو بقایا رقم کے حساب سے چھوٹے سے بڑے لکھیں۔ مثال: دوست سے قرض 10,000 روپے، کریڈٹ کارڈ 25,000 روپے، کار قرض 200,000 روپے۔
-
2
سب سے چھوٹے قرض پر اضافی ادائیگی کریں — سب سے چھوٹے قرض پر کم از کم ادائیگی کے علاوہ جتنا ہو سکے اضافی ڈالیں۔ فرض کریں کہ آپ 5,000 روپے ماہانہ اضافی ڈال سکتے ہیں۔
-
3
باقی قرضوں کی کم از کم ادائیگی جاری رکھیں — دوسرے قرضوں پر صرف کم از کم قسط ادا کریں۔
-
4
پہلا قرض ختم ہونے پر جشن منائیں اور اگلے پر جائیں — جب چھوٹا قرض ختم ہو جائے تو اس کی قسط کی رقم کو اگلے چھوٹے قرض میں شامل کریں۔ اس طرح آپ کو بار بار کامیابی کا احساس ہوگا۔
تمام قرضوں کو ایک کم سود والے قرض میں تبدیل کریں تاکہ ایک ماہانہ قسط ہو۔
-
1
اپنے تمام قرضوں کی تفصیلات جمع کریں — ہر قرض کی بقایا رقم، سود کی شرح، اور ماہانہ قسط لکھیں۔ مثال: تین کریڈٹ کارڈز پر کل 150,000 روپے 28% سود۔
-
2
کم سود والے قرض کے لیے بینک یا آن لائن پلیٹ فارم تلاش کریں — ایسے بینک یا ادارے تلاش کریں جو قرضوں کو اکٹھا کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ مثلاً، بینک الفلاح 15% سود پر قرض دیتا ہے۔
-
3
درخواست دیں اور قرض منظور ہونے پر پرانے قرض ادا کریں — نیا قرض لے کر تمام پرانے قرضوں کو ایک ہی بار میں ادا کر دیں۔ اب صرف ایک ماہانہ قسط باقی رہے گی۔
قرضوں کی ادائیگی کے لیے اضافی آمدنی پیدا کریں جیسے فری لانسنگ یا پارٹ ٹائم کام۔
-
1
اپنی مہارتوں کی فہرست بنائیں — لکھیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں: تحریر، ڈیزائن، ٹیوشن، ڈرائیونگ وغیرہ۔ اگر آپ کو انگلش آتی ہے تو آن لائن ٹیوشن بھی کر سکتے ہیں۔
-
2
آن لائن پلیٹ فارم پر رجسٹر کریں — فری لانسنگ کے لیے Fiverr، Upwork، یا مقامی سائٹس جیسے Rozee.pk استعمال کریں۔ ایک پروفائل بنائیں اور اپنی خدمات پیش کریں۔
-
3
ہفتے میں کم از کم 5 گھنٹے کام کریں — اگر آپ اوسطاً 500 روپے فی گھنٹہ کماتے ہیں تو 5 گھنٹے میں 2500 روپے اضافی آمدنی ہوگی۔ یہ رقم براہ راست قرض پر لگائیں۔
ماہانہ بجٹ بنا کر قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک مخصوص رقم مختص کریں۔
-
1
اپنی ماہانہ آمدنی اور اخراجات لکھیں — تمام ذرائع سے آمدنی اور ہر قسم کے اخراجات (کرایہ، بجلی، کھانا) لکھیں۔ مثال: آمدنی 50,000 روپے، اخراجات 35,000 روپے۔
-
2
قرضوں کی ادائیگی کے لیے رقم مختص کریں — بچت والی رقم (15,000 روپے) میں سے کم از کم 10,000 روپے قرضوں کے لیے رکھیں۔
-
3
غیر ضروری اخراجات کم کریں — اگر ممکن ہو تو باہر کھانے، تفریح، اور دیگر غیر ضروری اخراجات میں کمی کریں۔ مثال: مہینے میں 2 بار باہر کھانے کی بجائے گھر پر کھائیں۔
اگر آپ کا کل قرض آپ کی سالانہ آمدنی سے زیادہ ہے، یا آپ کم از کم ادائیگیاں بھی نہیں کر پا رہے، تو پیشہ ور مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اس کے علاوہ اگر قرض کی وجہ سے آپ کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے تو کسی کونسلر سے بات کریں۔
قرضوں کی ترجیح طے کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، لیکن اس کے لیے نظم و ضبط چاہیے۔ میں نے خود برفانی تودے کا طریقہ استعمال کیا اور دو سال میں قرض سے نجات پائی۔ آپ بھی کسی ایک طریقے کو آزمائیں اور اس پر قائم رہیں۔ یاد رکھیں، ہر ماہ تھوڑی تھوڑی پیشرفت بھی بہتر ہے۔
💬 اپنا تجربہ شیئر کریں
اپنا تجربہ شیئر کریں — یہ ایسے ہی مسئلے سے گزرنے والوں کی مدد کرتا ہے!